10 اشعار

خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں

Khaak par khaak ki dheriyaan reh gayeen

خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیںآدمی اٹھ گئے نیکیاں رہ گئیں

کس کی تعلیم کا آخری سال تھاچوڑیاں بک گئیں بالیاں رہ گئیں

عشق اک روپ تھا حسن کی دھوپ کایاد کیوں دھوپ کی سختیاں رہ گئیں

خون میں گھل گئیں سانولی قربتیںتن میں تپتی ہوئی ہڈیاں رہ گئیں

درد انگور کی بیل تھے پھل گئےغم کشوں کے لیے تلخیاں رہ گئیں

عرصۂ فسق میں قسمت عشق میںحکمت آمیز پسپائیاں رہ گئیں

قمقموں کی طرح قہقہے جل بجھےمیز پر چائے کی پیالیاں رہ گئیں

اس بلندی پہ ہم نے پڑاؤ کیاجس کے آگے فقط پستیاں رہ گئیں

حسن کے ہاتھ سے آئینہ گر پڑافرش پندار پر کرچیاں رہ گئیں

ہم نے کاغذ کو بھی آئنہ کر دیالیکن اپنی سیہ بختیاں رہ گئیں

— خالد احمد