8 اشعار

دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی

Dam saad ke dekhoon tujhe jhapkau'n na palk bhi

دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھیآنکھوں میں سمو لوں ترے لہجے کی دمک بھی

اے عشق اگر مجھ کو ترا اذن ہو ممکنآغوش میں لے لوں ترے پیکر کی مہک بھی

اے ذکر مرے فکر کی تقدیر بدل دےاے نور مرے نطق کے کاسے میں جھلک بھی

اے قطرۂ خوں مصحف رخسار پہ تل بناے سطر تپاں کاغذ سادہ پہ دہک بھی

دل عرض ہنر ہے تو بدن ارض ہنر ہےاے میرے دل سادہ مرے تن میں دھڑک بھی

یہ رنگ مرے نور میں رکھے ہیں اسی نےگندھوائی تھی جس نے مری مٹی کی مہک بھی

اس شہر کی جانب مرے پاؤں نہیں اٹھتےاس دل سے وہی دور کرے گا یہ جھجک بھی

کیا میں نے کیا ہے کہ سزا وار ردا ہوںمجھ کو تو بہت ہے تری کملی کی جھلک بھی

— خالد احمد