7 اشعار

پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئے

Pyaas lagna thi lagi sarsaar hona tha hue

پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئےہم کو غرقاب سراب دار ہونا تھا ہوئے

ہم تری آہٹ پہ سڑکوں پر نکل آئے تو کیاہم کو رسوا بر سر بازار ہونا تھا ہوئے

تیرے کاندھوں کے لیے سر دے کے آخر کیا گیاہم کو یوں بھی بے سر و دستار ہونا تھا ہوئے

تو کہے تو اپنے ہاتھوں اپنی شہ رگ کاٹ لیںہم کو تیرے ہاتھ کی تلوار ہونا تھا ہوئے

خواب کے عالم میں چلنے کا مرض کب جا سکاخواب ہی میں نیند سے بیدار ہونا تھا ہوئے

ان سروں کی اور ان محلوں کی قسمت ایک تھیسنگ چلنا تھے چلے مسمار ہونا تھا ہوئے

ایک دن خالدؔ ہمیں یہ سوانگ بھرنا تھا بھراجھوٹ گھڑنا تھے گھڑے فن کار ہونا تھا ہوئے

— خالد احمد