10 اشعار

نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں

Noor noor zehno'n mein khauf ke andhere hain

نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیںروشنی کے پیڑوں پر رات کے بسیرے ہیں

شہر شہر سناٹے یوں صدا کو گھیرے ہیںجس طرح جزیروں کے پانیوں میں ڈیرے ہیں

نیند کب میسر ہے جاگنا مقدر ہےزلف زلف اندھیارے خم بہ خم سویرے ہیں

دل اگر کلیسا ہے غم شبیہ عیسیٰ ہےپھول راہبہ بن کر روح نے بکھیرے ہیں

عشق کیا وفا کیا ہے وقت کیا خدا کیا ہےان لطیف خیموں کے سائے کیوں گھنیرے ہیں

ذوق آگہی بھی دیکھ طوق بے کسی بھی دیکھپاؤں میں ہیں زنجیریں ہاتھ میں پھریرے ہیں

ہو بہ ہو وہی آواز ہو بہ ہو وہی اندازتجھ کو میں چھپاؤں کیا مجھ میں رنگ تیرے ہیں

توڑ کر حد امکاں جائے گا کہاں عرفاںراہ میں ستاروں نے جال کیوں بکھیرے ہیں

فہم لاکھ سلجھائے وہم لاکھ الجھائےحسن ہے حقائق کا کیا خیال میرے ہیں

ہم تو ٹھہرے دیوانے بستیوں میں ویرانےاہل عقل کیوں خالدؔ پاگلوں کو گھیرے ہیں

— خالد احمد