5 اشعار

ڈر یہ ہے بازوؤں میں موم کی صورت نہ پگھل جائے کہیں

Dar yeh hai baazuon mein mom ki surat na pighal jaye kahin

ڈر یہ ہے بازوؤں میں موم کی صورت نہ پگھل جائے کہیںتو مرے ساتھ مرے جسم کے دوزخ میں نہ جل جائے کہیں

گھر سے گاتا ہوا نکلا تو ہوں میں نغمۂ احساس مگرشہر کے شور میں دب جائیں نہ سر لے نہ بدل جائے کہیں

فقط اس خوف سے جاتا نہیں میں صبح طرب کی جانبافق دل سے ترے درد کا مہتاب نہ ڈھل جائے کہیں

یہ ترا کام نہیں دیکھ نہ دنیا کی طرف گائے جامدھم اک آہ میں اک چیخ میں پنچم نہ بدل جائے کہیں

صبح نزدیک ہے کروٹ بھی بدل سوچ سمجھ کر خالدؔذہن پر آخر شب نیند کی تلوار نہ چل جائے کہیں

— خالد احمد