6 اشعار

صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو

Sahra mein deewar banana jaane kaisa ho

صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہواور پھر اس سے سر ٹکرانا جانے کیسا ہو

یہ رستے جو ہم نے پگ پگ آپ بکھیرے ہیںان رستوں سے لوٹ کے جانا جانے کیسا ہو

جس کی پوریں دل کی اک اک دھڑکن گنتی ہیںجس کو ہم نے خود گردانا جانے کیسا ہو

اس کے سامنے ہم کیا جانیں دل پر کیا گزرےنام تک اپنا یاد نہ آنا جانے کیسا ہو

اس کی نگاہ میں آنا کوئی چھوٹی بات نہیںاس کے دل میں راہ بھی پانا جانے کیسا ہو

ہم کیا جانیں پار لگیں یا آر رہیں خالدؔرہ گم کردہ مر کھپ جانا جانے کیسا ہو

— خالد احمد