10 اشعار

رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہوا

Rang sa phirta hai zer-e-aasman dekha hua

رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہواروبرو اک عکس ہے جانے کہاں دیکھا ہوا

کس کے ہونے کی خبر دیتے ہیں یہ دیوار و درجانے کیوں لگتا ہے مجھ کو یہ مکاں دیکھا ہوا

اک گھروندا ہولے ہولے گھل رہا ہے آج بھیایک منظر ہے تہہ آب رواں دیکھا ہوا

میں تو پہلی بار آیا تھا تمہارے شہر میںناگہاں مجھ کو لگا شہر گماں دیکھا ہوا

اک مہک بن کر نظر اٹھتی ہے میری چار سومیں تو پہروں دیکھتا ہوں یہ جہاں دیکھا ہوا

ہر گھڑی پایا نیا دھڑکا پرانے رنگ کاآگ ان دیکھی لگی اٹھا دھواں دیکھا ہوا

دن نکلتے ہی گھروں سے چل پڑے تیشہ بکفسورج ابھرا ہے کہ اک کوہ گراں دیکھا ہوا

ماند رہ جائے گی اس شب آنسوؤں کی آب بھیچاند پھر نکلا پس دیوار جاں دیکھا ہوا

آسماں تھا یا شکستہ چھت اندھیری قبر کیرات بھر دیکھا کیا میں آسماں دیکھا ہوا

ساتھ چلتا ہے کنارے پر کناروں کی طرحکیا کہوں خالدؔ کہ ہے یہ مہرباں دیکھا ہوا

— خالد احمد