6 اشعار

دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتے

Dil bhar aaye to samundar nahin dekhe jaate

دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتےعکس پانی میں اتر کر نہیں دیکھے جاتے

دیکھ اے سست روی ہم سے کنارا کر لےہر قدم راہ کے پتھر نہیں دیکھے جاتے

وہ چہک ہو کہ مہک ایک ہی رخ اڑتی ہےبر سر دوش ہوا پر نہیں دیکھے جاتے

دیکھ اے سادہ دل و سادہ رخ و سادہ جمالہر جگہ یہ زر و زیور نہیں دیکھے جاتے

اپنے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیںدرد مندوں کے مقدر نہیں دیکھے جاتے

سر گرفتوں کے لیے گھر بھی قفس ہیں خالدؔہمت اے خیرہ سرو سر نہیں دیکھے جاتے

— خالد احمد