13 اشعار

حال ہوا جب پوچھنے آئی ہم مجبوروں سے

Haal hua jab poochhne aayi hum majburo'n se

حال ہوا جب پوچھنے آئی ہم مجبوروں سےکوئی بات کہاں بن پائی ہم مجبوروں سے

آج سبھی دکھ آنسو بن کر آنکھ میں تیر گئےکھیل رہی تھی کھیل خدائی ہم مجبوروں سے

وہ بے پردہ وہ بے پروا وہ یک سر یک تالبات کرے یا وہ ہرجائی ہم مجبوروں سے

پاؤں توڑ کے بیٹھ رہے ہیں راہ کے پتھر بھیچاہ رہے تھے راہ نمائی ہم مجبوروں سے

کس آہٹ کی بہار سے پگ پگ دھول کے پھول کھلےکس موسم نے ٹھوکر کھائی ہم مجبوروں سے

کس کے لمس کے عکس نما ہیں خوشبو کے جھونکےپوچھ نہ بیٹھے گل صحرائی ہم مجبوروں سے

بال نچوڑ کے جھٹکے کس نے دکھ کے دل بادلپوچھ رہی ہے یہ پروائی ہم مجبوروں سے

درد کے رخ دروازے رکھیں چاند کے رخ کھڑکیکاش کرائے وہ چنوائی ہم مجبوروں سے

کار نمو آغاز رہے گا گور ہو یا گلشنرت نے سیکھی گل آرائی ہم مجبوروں سے

آنکھیں ہونٹوں کے تالے بھی کھلتے دیکھیں گیدنیا چھین تو لے گویائی ہم مجبوروں سے

راہ دکھانے والے کس دن کس پل آ پہنچیںکب چھن جائے یہ بینائی ہم مجبوروں سے

نور چراغ طاق تغافل دل تاریک نہ کربول کچھ اے ماہ یکتائی ہم مجبوروں سے

زہر پیالہ پی لو خالدؔ سلگ اٹھو خالدؔکیا کیا کہتی تھی شہنائی ہم مجبوروں سے

— خالد احمد