7 اشعار

خوف زدہ تھے کون سے لوگ ان شیر دلیروں سے

Khauf zada the kaun se log in sher dileeron se

خوف زدہ تھے کون سے لوگ ان شیر دلیروں سےکوئی تو اتنا پوچھے ان مٹی کے ڈھیروں سے

دن کے دیس سے اڑ آتے ہیں میری آنکھوں میںساتھ نبھانا بھول گئے تھے رنگ اندھیروں سے

تیر چلانے والے گھر کیا لوٹ بھی پائیں گے؟کیا یہ پنچھی دم دے دیں گے دور بسیروں سے

شام کا تارا، صبح کا پہلا تارا ٹھہرے گاحجلۂ وصل میں رات رہے گی، بات سویروں سے

کوئی اپنے گھر کا رستہ بھول سکا ہے کبھی؟کیا جانے کیوں اڑ اڑ جائیں کاگ منڈیروں سے

خاک اڑے تو میرے ہاتھوں میری خاک اڑےمجھ کو ڈر لگتا ہے، سانپوں اور سپیروں سے

مجھ کو جاننے والے خالدؔ جان نہ پائیں گےاس چکر میں نکلا ہوں میں، کتنے پھیروں سے

— خالد احمد