6 اشعار

غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں

Gham faraham hain magar in ki farawani nahin

غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیںاے گراں جانی یہاں کوئی بھی آسانی نہیں

چار سو اک برف بستہ عہد نم کا راج ہےدھوپ میں حدت نہیں دریاؤں میں پانی نہیں

یاد ہے کیا کام ہے اس شہر کا کیا نام ہےسب کچھ اس جیسا ہے لیکن آسماں دھانی نہیں

زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیںلوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں

زندگی بھر صرف اسے پوجا مگر گھر بیٹھ کرپاسداران وفا کا کام دربانی نہیں

اک شجر کے کوئی دو پتے بھی اک جیسے نہ تھےمیری دنیا میں کسی شے کا کوئی ثانی نہیں

— خالد احمد