6 اشعار

ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا

Ubhri na koi shakal na paikar nazar aaya

ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیاتصویر میں رنگوں کا سمندر نظر آیا

اے دوست ترا شہر بھی ہے شہر طلسماتچھوکر جسے دیکھا وہی پتھر نظر آیا

ہر شخص حقائق کی کڑی دھوپ کے ڈر سےتانے ہوئے اوہام کی چادر نظر آیا

ہر شخص نیا شخص تھا جب غور سے دیکھاانسان اک انسان کے اندر نظر آیا

میں خواب میں کل رات جسے چوم رہا تھاجاگا تو اسی ہاتھ میں پتھر نظر آیا

جب بونے لگا بیج خیالات کے خالدؔہر لفظ کا دامن مجھے بنجر نظر آیا

— خالد احمد