7 اشعار

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو

Socho to kuchh na samjho samjho to kuchh na bolo

سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولوپھر چپ کا حسن دیکھو بے کار لب نہ کھولو

نوحہ کناں ہواؤ شعلہ بہ جاں فضاؤدیکھو وہ جا رہا ہے جی بھر کے اس کو رو لو

ڈالے رہیں بسیرے خوابوں بھرے اندھیرےمحلوں کی آس رکھو کٹیا کے پٹ نہ کھولو

کوندے لپک رہے ہیں جذبے چمک رہے ہیںصدیاں بلک رہی ہیں لمحوں کو یوں نہ رولو

ہر فاصلہ بڑا ہے ہر مرحلہ کڑا ہےسورج اگر ہے پیچھے سائے کے ساتھ ہو لو

گل ہوں بکھر نہ جاؤں پل ہوں گزر نہ جاؤںتکمیل کر لو اپنی آغوش میں سمو لو

دنیا فقط گماں ہے سب کچھ درون جاں ہےجاگو ضرور خالدؔ آنکھیں مگر نہ کھولو

— خالد احمد