7 اشعار

لب سیے دیکھا کروں سوچا کروں

Lab siye dekha karoon socha karoon

لب سیے دیکھا کروں سوچا کروںمیرے بس میں کچھ نہیں میں کیا کروں

راہ میں ہے درد کا کوہ گراںکوہ کن بھی میں نہیں میں کیا کروں

شہر کے شور و شغب سے بھاگ کرکوئی کنج عافیت ڈھونڈا کروں

گنجلک مگھم صداؤں کی طرحگنبد تنہائی میں گونجا کروں

اور ان مبہم صداؤں کا اگرکوئی مطلب ہو تو وہ لکھا کروں

اور جب اپنی سمجھ میں کچھ نہ آئےچیخ اٹھوں کیا کروں میں کیا کروں

شہر کی ویرانیوں پر نوحہ گرروح بن کر رات بھر بھٹکا کروں

— خالد احمد