11 اشعار

کھلا مجھ پر در امکان رکھنا

Khula mujh par dar-e-imkaan rakhna

کھلا مجھ پر در امکان رکھنامرے مولا مجھے حیران رکھنا

یہی اک مرحلہ منزل نہ ٹھہرےیہی اک مرحلہ آسان رکھنا

مرے دل کا ورق نکلے نہ سادہکوئی خواہش کوئی ارمان رکھنا

یہ دل طاق چراغ زر نہ ٹھہرےمرے مالک مجھے نادان رکھنا

مرے حالات مجھ کو چھو نہ پائیںمجھے ہر حال میں انسان رکھنا

بھری رکھنا مرے مولا یہ آنکھیںدکھوں کی بارشوں کا مان رکھنا

مرے ساتھی بھی مجھ سے بے نوا ہیںبساطیں دیکھ کر تاوان رکھنا

یہ دن کیوں کر چڑھا وہ شب ڈھلی کیوںمجھے آیا نہ اتنا دھیان رکھنا

مجھے بھی عام یا گمنام کر دےکہ اک آزار ہے پہچان رکھنا

اسیر عمر کو آیا نہ اب تککتاب ہجر کا عنوان رکھنا

ہوا کی طرح صحرا سے گزر جاسفر میں کیا سر و سامان رکھنا

— خالد احمد