9 اشعار

رنگ کہتے ہیں کہانی میری

Rang kehte hain kahani meri

رنگ کہتے ہیں کہانی میریکس کی خوشبو تھی جوانی میری

کوئی پائے تو مجھے کیا پائےکھوئے رہنا ہے نشانی میری

کوہ سے دشت میں لے آئی ہےدشمن جاں ہے روانی میری

کھل رہی ہے پس دیوار زماںخواہش نقل مکانی میری

سر مرقد ہیں سبھی سایہ کشاکوئی حسرت نہیں فانی میری

تپش رنگ جھلس ڈالے گیکیا کرے سوختہ جانی میری

نقش تھا میں بھی گلی تختی کااڑ گئی خاک معانی میری

کیا سخن فہم نظر تھی جس نےبات کوئی بھی نہ مانی میری

ناقدوں نے مجھے پرکھا خالدؔخاک صحراؤں نے چھانی میری

— خالد احمد