6 اشعار

آتش عشق جی جلاتی ہے

Aatish-e-ishq ji jalati hai

آتش عشق جی جلاتی ہے

«آتش عشق جی جلاتی ہے» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

آتش عشق جی جلاتی ہےیہ بلا جان ہی پہ آتی ہے

تو ہے اور سیر باغ ہے ہر وقتداغ ہیں اور میری چھاتی ہے

شام بھی ہو چکی کہیں اب توآ شتابی ایک رات جاتی ہے

کچھ مناسب نہیں ہے کیا کہئےجی میں جو کچھ ایک اپنے آتی ہے

ٹک خبر لے کہ ہر گھڑی ہم کیااب جدائی بہت ستاتی ہے

دردؔ اس کی بھی دید کر لیجئےنوجوانی یہ مفت جاتی ہے

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں