6 اشعار

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

Seena-o-dil hasraton se chha gaya

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

«سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجوم یاس جی گھبرا گیا

تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفاپر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مریجی میں یہ کس کا تصور آ گیا

میں تو کچھ ظاہر نہ کی تھی جی کی باتپر مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا

پی گئی کتنوں کا لوہو تیری یادغم ترا کتنے کلیجے کھا گیا

مٹ گئی تھی اس کے جی سے تو جھچکدردؔ کچھ کچھ بک کے تو چونکا گیا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں