5 اشعار

سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو

Samajhna fehm gar kuch hai tabee'ee se ilaahi ko

سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو

«سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کوشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کو

نہیں ممکن کہ ہم سے ظلمت امکان زائل ہوچھڑا دے آہ کوئی کیوں کے زنگی سے سیاہی کو

عجب عالم ہے ایدھر سے ہمیں ہستی ستاتی ہےادھر سے نیستی آتی ہے دوڑی عذر خواہی کو

نہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سےگنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو

نہ لازم نیستی اس کو نہ ہستی ہی ضروری ہےبیاں کیا کیجیے اے دردؔ ممکن کی نناہی کو

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں