5 اشعار

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

Milaun kis ki aankhon se main apni chashm-e-hairaan ko

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

«ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو

تجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہےہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو

نہ تنہا کچھ یہی اطفال دشمن ہیں دوانوں کےبھرے ہے کوہ بھی دیکھا تو یاں پتھروں سے داماں کو

جھمکتے ہیں ستاروں کی طرح سوراخ ہستی کےچھپایا گو کہ جوں خورشید میں داغ نمایاں کو

نہ واجب ہی کہا جاوے نہ صادق ممتنع اس پرکیا تشخیص کچھ ہم نے نہ ہرگز شخص امکاں کو

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں