6 اشعار

یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا

YooN hi thehri ke abhi jaaiye ga

یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا

«یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گابات جو ہو گی، سو فرمائیے گا

میں جو پوچھا، کبھو آؤ گے؟ کہاجی میں آ جائے گی، تو آئیے گا

میں خُدا جانے یہ کیا دیکھوں ہوںآپ کچھ جی میں نہ بھرمائیے گا

میری ہونے سے عبث رُکتے ہوپھر اکیلے بھی تو گھبرائیے گا

کہیں ہم کو بھی، بھلا لوگوں میںپھرتے چلتے نظر آئیے گا

درد! ہم اس کو تو سمجھائیں گے پراپنے تئیں آپ بھی سمجھائیے گا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں