8 اشعار

اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے

Uski bahaar-e-husn ka dil mein hamare Josh hai

اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے

«اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہےفصل بہار جس کے ہاں ایک یہ گل فروش ہے

بخت سیہ برنگ شب نت ہی گلیم پوش ہےشمع بھی اپنے ہاں اگر ہے تو سدا خموش ہے

خلوت دل دل کر دیا اپنے حواس میں خللحسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے

ہووے تو درمیان سے اپنے تئیں اٹھائیےبار نہیں ہے اور کچھ سر ہی وبال دوش ہے

نالہ و آہ کیجیے خون جگر ہی پیجیےعہد شباب کہتے ہیں موسم ناؤ نوش ہے

بے خبروں کو پھر کہیں دست قضا نہ چھیڑ تومثل دہل ہر ایک میں ورنہ بھرا خروش ہے

غیر ملال زاہدا کیا ہے طریق زہد میںدل ہو شگفتہ جس جگہ کوچۂ مے فروش ہے

اپنے تئیں تو کام کچھ خرقۂ و جامہ سے نہیںدردؔ اگر لباس ہے دیدۂ عیب پوش ہے

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں