18 اشعار

حیات اک سلسلہ ہے آشفتہ جانیوں کا

Hayat ek silsila hai aashufta jaaniyon ka

حیات اک سلسلہ ہے آشفتہ جانیوں کاملا مجھے خوب یہ صلہ جاں فشانیوں کا

فریب دہ ہے جنوں بقا کی نشانیوں کایہ عالم آب و گل ہے اجلاس فانیوں کا

نگاہ افروز کیف اندوز و عیش آموزہے ایک سیل نشاط اٹھتی جوانیوں کا

جنون شاعر شعور عالم ریاض عابدہے سب کو انداز اپنی اپنی روانیوں کا

بشر کے دل میں فلک کی نیلاہٹوں کی آہٹزمیں کی ہلچل فسوں سمندر کے پانیوں کا

مجھے یہ ڈر ہے کہیں نہ ہو شہر شہر چرچاتری جفا کی مری وفا کی کہانیوں کا

یہ آدمی آدمی کے بیچ اونچ نیچ یارببنا ہے یہ تفرقہ تماشا جہانیوں کا

وصال میں ہم تھے اتنے مدہوش جانتے کیاکہ سوز حرماں ہے ماحصل شادمانیوں کا

حیات اور موت ہیں تری دلبری کے غمزےتماشا گہ ہے جہاں تری دلستانیوں کا

یہ گرم آنسو یہ سرد آہیں حزیں نگاہیںخیال رکھنا مری وفا کی نشانیوں کا

وہ کیسے میرے دل شکستہ کا درد جانیںہجوم ہے جن کی زندگی کامرانیوں کا

کہاں ہے چاہت کی دل کش و دل نواز رنجشہے تذکرہ ہر جگہ تری مہربانیوں کا

اداس حیراں شباب میرا ہدف رہا ہےتمہاری راتوں کی دل شکن سرگرانیوں کا

وہ شور اٹھا لا شعور کی ننھی بستیوں میںغرور ٹوٹا شعور کی راجدھانیوں کا

پناہ دیتی ہے پاپ کو کیوں وشال دھرتیوچار ایسا سمجھ کا ہے پھیر گیانیوں کا

یہ کیسی بپتا پڑی ہے سنسار پر کہ اے دلنہ دھیر قائم نہ دھیان باقی ہے دھیانیوں کا

میں اس پہ شیدا ہوا ہوں مدت سے کرشن موہنؔجو دل میں رس گھولتا ہے شیریں بیانیوں کا

جدید راہوں کا شوخ راہی ہے کرشن موہنؔوہ ہم نوا ہے نئے تمدن کے بانیوں کا

— کرشن موہن