5 اشعار

خواہش پہاڑ جس کے تلے دب گیا ہوں میں

Khwahish pahar jis ke tale dab gaya hoon main

خواہش پہاڑ جس کے تلے دب گیا ہوں میںپہلے تھا برقرار یہیں اب گیا ہوں میں

میرا عبث یہ سوگ ہے یہ کس کے بس کا روگتو ہی مجھے سنبھال کہ یارب گیا ہوں میں

ہے بانجھ میری سوچ نہیں جس میں کوئی لوچآنا بہت محال ہے اب جب گیا ہوں میں

زندہ ہوں میری آمد و شد سے ہے کائناتآؤں گا کال ہے مرا مر کب گیا ہوں میں

کیوں لوگ محو سوگ ہیں رو دھو رہے ہیں کرشنؔموہنؔ سمجھ رہے ہیں یہی سب گیا ہوں میں

— کرشن موہن