10 اشعار

سرد عورت سے ملن کا سادھن

Sard aurat se milan ka sadhan

سرد عورت سے ملن کا سادھناپنا اپمان ہے کرشنا موہنؔ

روپ مطلع کو دیا مقطع کاکتنی معکوس ہے یہ طرز سخن

اس کا سب زہر پیا ہے میں نےمیرا چنتن کہ ہے امرت منتھن

پھول چننے کے لیے نکلے تھےخار ہی پائے ہیں گلشن گلشن

دوستی اپنی ہے رنج و غم سےاور خوشیوں سے رہی ہے ان بن

دل کو سلگاتا رہا ہے برسوںمیرے اشکوں کا سلگتا ساون

گو نظر آتا ہے چہرہ بے داغسچ نہیں بولتا دھندلا درپن

میرے افکار میں کچھ سنبھلا ہےآرزؤں کا مچلتا جوبن

سوچتا من ہے چتا چنتا کیہو گیا ایک مرن اب جیون

من کی شکتی ہے سپیرن جس سےکھیلتی رہتی ہے چنتا سانپن

— کرشن موہن