10 اشعار

کنار آب کی ایک شام

Kinar-e-aab ki ek sham

شفق کا سونا فضا میں تحلیل ہو رہا ہےسنہرے پانی کی سلوٹیں رقص کر رہی ہیں

سپہر مغرب کی مرگ آمادہ و غروب آشنا شعاعیںخموش لہروں سے یوں ہم آغوش ہو رہی ہیں

کہ جیسے خوابوں میں کھو رہی ہیںشفق کی لہریں فلک کی تابندہ رہ گزاروں کو چومتی ہیں

سحاب پاروں کو چومتی ہیںسحاب پاروں میں منہ چھپائے ہوئے ستاروں کو چومتی ہیں

جبین آب رواں پہ افشاں چمک رہی ہےطلسم آگیں فضائے رنگیں

عروس شعلہ بدن کی لرزاں قبائے زریںقبائے زریں کی کسمساتی گداز لہریں

کہ محو رقص و غنا حسیں لرزشیں بدن کیعروس فطرت کے ریشمیں پیرہن کا یہ آتشیں تبسم

ضیائے خاموش کے سکوت آشنا ترنم میں گھل رہا ہےکہ عقدۂ گیسوئے شب تار کھل رہا ہے

بدن چرائے ہوئے سر رہ گزار کوئی جواں حسینہصبا خرام و صبا قرینہ

خموش کچھ سوچتی ہوئی خواب گاہ عشرت کو جا رہی ہےفضائے تاریک چھا رہی ہے

— کرشن موہن