6 اشعار

مفکر کی موت

Mufakkir ki maut

یہ اک باغی مفکر کا جنازہ ہےہلا ڈالا تھا اپنی کافرانہ فکر سے جس نے

یکایک ساری دنیا کوفقط بیس آدمی ہم راہ ہیں اس کے جنازے کے

زمانہ جس کی قدر و منزلت کرتا تھا اور جس کے خیالوں سے سنورتا تھاوہ باغی جا رہا ہے آج اکیلا ایک البیلا مسافر تھا

کروڑوں مومنوں پر تھا جو بھاری ایسا کافر تھاستارے کیوں چمکتے ہیں دلوں کا ماجرا کیا ہے

ستیزہ خو ہے کیوں انساں محبت کا مزہ کیا ہےیہ تحقیق اس کا مذہب تھا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روئے گی

— کرشن موہن