10 اشعار

عمر بڑھتی جا رہی ہے زیست گھٹتی جائے ہے

Umar baṛhti jā rahī hai zeest ghaṭtī jae hai

عمر بڑھتی جا رہی ہے زیست گھٹتی جائے ہےجسم کی خوشبو کی خواہش دور ہٹتی جائے ہے

سوچ میں بھی اب نہیں پہلا سا تیور اور لوچشوق کی دیوار گرد غم سے اٹھتی جائے ہے

بے مزہ ہونے لگی ہے زندگی بعد شبابرات ابھی باقی ہے لیکن نیند اچٹتی جائے ہے

آ رہی ہے سکھ ملن کی چمپئی اجلی سحردکھ کی یہ بے چین اندھیری رین کٹتی جائے ہے

یاس کے حساس لمحوں میں بھی ہے کتنا سرورشاہدہ امید کی مجھ سے لپٹتی جائے ہے

کام کی افراط میں دفتر کے ہنگاموں میں بھیتیری یاد آئے توجہ میری بٹتی جائے ہے

ہے بدن چور اور کومل کس قدر چت چور شامجیسے شرمیلی دلہن خود میں سمٹتی جائے ہے

ہے وہ چنچل کامنی محبوب سارے شہر کودیکھ کر جس کو نظر میری پلٹتی جائے ہے

باب حسرت داستان شوق تصویر امیدلمحہ لمحہ زندگی اوراق الٹتی جائے ہے

جاگ اٹھی ہے جیو جیوتی آس اور وشواس کیکرشن موہنؔ کالما دبدھا کی چھٹتی جائے ہے

— کرشن موہن