ورثہ
کلام: نوشی گیلانی
بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیںضبط کے زرد آنچل میں اپنے
سارے درد چھپا لیتی ہیںروتے روتے ہنس پڑتی ہیں
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیںضبط کے زرد آنچل میں اپنے
سارے درد چھپا لیتی ہیںروتے روتے ہنس پڑتی ہیں
ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہےہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے
یہ کس کی نرم خوشبو ہے مری شب کی حویلی میںیہ کیسا رقص مستی اے دل بے تاب زندہ ہے
میرے چارہ گر کوئی چارہ کرمیرے کوزہ گر کوئی تو ایسا ہنر تو کر
مٹی اٹھا میری پاس سےزرا چاہ ملا میری ذات میں