5 اشعار

دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میں

Din kat rahe hain kashmakash-e-rozgar mein

دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میں

«دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میںدم گھٹ رہا ہے سایۂ ابر بہار میں

آتی ہے اپنے جسم کے جلنے کی بو مجھےلٹتے ہیں نکہتوں کے سبو جب بہار میں

گزرا ادھر سے جب کوئی جھونکا تو چونک کردل نے کہا یہ آ گئے ہم کس دیار میں

میں ایک پل کے رنج فراواں میں کھو گیامرجھا گئے زمانے مرے انتظار میں

ہے کنج عافیت تجھے پا کر پتہ چلاکیا ہمہمے تھے گرد‌ سر رہ گزار میں

— مجید امجد