گلی کا چراغ
کلام: مجید امجد
تری جلن ہے مرے سوزِ دل کے کتنی قریبخدا رکھے تجھے روشن! چراغِ کوئے حبیب
تو جانتا ہے مری زندگی کا افسانہتو جانتا ہے میں کس شمع کا ہوں پروانہ
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
تری جلن ہے مرے سوزِ دل کے کتنی قریبخدا رکھے تجھے روشن! چراغِ کوئے حبیب
تو جانتا ہے مری زندگی کا افسانہتو جانتا ہے میں کس شمع کا ہوں پروانہ
کنواں چل رہا ہے ! مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں نہ فصلیں ، نہ خرمن ، نہ دانہنہ شاخوں کی باہیں ، نہ پھولوں کے مکھڑے ، نہ کلیوں کے ماتھے ، نہ رت کی جوانی
گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز ، خوں رنگ ، پانیکہ جس طرح زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی