10 اشعار

ایکٹرس کا کنٹریکٹ

Actress Ka Contract

ایکٹرس کا کنٹریکٹ

«ایکٹرس کا کنٹریکٹ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھیہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگ گل سے خراش

یہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گدازیہ ایک روح بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر!

ذرا قریب تو آ دیکھ تیرے سامنے ہیںیہ سرخ رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیے

کبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھےجو تو کہے تو یہی ہونٹ سرخ رس بھرے ہونٹ

ترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں!قریب آ یہ بدن میری زندگی کا طلسم

تری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہےجو تو کہے تو یہی نرم لہریا آنچل

یہی نقاب مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئییہی ردا مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئی

یہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہےبس ایک شرط۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویز

ذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہیاکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے!

ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے

— مجید امجد