8 اشعار

جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

Jo dil ne keh di hai woh baat an-kahi bhi na thi

جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

«جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھییہ موج تو تہ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کوڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی

سرک گیا کوئی سایا سمٹ گیا کوئی دورکسی کے عکس کی پیاسی کشش سہی بھی نہ تھی

سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیاوہ دل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی

نگر نگر وہی آنکھیں پس زماں پس درمری خطا کی سزا عمر گمرہی بھی نہ تھی

کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھاکبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی

نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعوراس آگ میں تو کوئی آب آگہی بھی نہ تھی

غموں کی راکھ سے امجدؔ وہ غم طلوع ہوئےجنہیں نصیب اک آہ سحر‌ گہی بھی نہ تھی

— مجید امجد