8 اشعار

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا

Kya roop dosti ka kya rang dushmani ka

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا

«کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کاکوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

اک تنکا آشیانہ اک راگنی اثاثہاک موسم بہاراں مہمان دو گھڑی کا

آخر کوئی کنارا اس سیل بے کراں کاآخر کوئی مداوا اس درد زندگی کا

میری سیاہ شب نے اک عمر آرزو کیلرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا

شاید ادھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہبیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بہ لب کبھی کا

اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباںمجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بے رخی کا

اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیںلیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا

او مسکراتے تارو او کھلکھلاتے پھولوکوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں