10 اشعار

خودکشی

Khudkushi

خودکشی

«خودکشی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میںکل رات ایک حادثۂ قتل ہو گیا

ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ اک جام زہر کادو جیونوں کی ننھی سی نوکا ڈبو گیا

کوئی دکھی جوان وطن اپنا چھوڑ کراپنی سکھی کے ساتھ اک اور دیس کو گیا

دنیا کے خارزار میں سو ٹھوکروں کے بعدیوں آخر ان کا قصۂ غم ختم ہو گیا

یوں طے کیا انہوں نے محبت کا مرحلہایک ایک گھونٹ اور جو ہونا تھا ہو گیا

دونوں کی آنکھ میں تھا اک اک اشک منجمدجو خشک خشک پلکوں کی نوکیں بھگو گیا

کچھ کہنے پائی تھی کہ وہ خاموش ہو گئیکوئی جواب دینے کو تھا وہ کہ سو گیا

پیمانۂ اجل کا وہ تلخابہ اس طرحروحوں کے زخموں سینوں کے داغوں کو دھو گیا

اکثر یونہی ہوا ہے کہ الفت کا امتحاںدشواریوں میں موت کی آسان ہو گیا

آؤ نا ہم بھی توڑ دیں اس دام زیست کوسنگ اجل پہ پھوڑ دیں اس جام زیست کو

— مجید امجد