6 اشعار

سوکھا تنہا پتا

Sookha Tanha Patta

سوکھا تنہا پتا

«سوکھا تنہا پتا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

اس بیری کی اونچی چوٹی پر وہ سوکھا تنہا پتاجس کی ہستی کا بیری ہے پت جھڑ کی رت کا ہر جھونکا

کاش مری یہ قسمت ہوتی کاش میں وہ اک پتا ہوتاٹوٹ کے جھٹ اس ٹہنی سے گر پڑتا کتنا اچھا ہوتا

گر پڑتا اس بیری والے گھر کے آنگن میں گر پڑتایوں ان پازیبوں والے پاؤں کے دامن میں گر پڑتا

جس کو میرے آنسو پوجیں اس گھر کے خاشاک میں مل کرجس کو میرے سجدے ترسیں اس دوارے کی خاک میں مل کر

اس آنگن کی دھول میں مل کر مٹتا مٹتا مٹ جاتا میںعمر بھر ان قدموں کو اپنے سینے پر مضطر پاتا میں

ہائے مجھ سے نہ دیکھا جائے آیا ہوا کا جھونکا آیاڈالیاں لرزیں ٹہنیاں کانپیں لو وہ سوکھا پتا ٹوٹا

— مجید امجد