24 اشعار

نژاد نو

Nezhad-e-Nau

نژاد نو

«نژاد نو» مجید امجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیںشریر روحیں

ضمیر ہستی کی آرزوئیںچٹکتی کلیاں

کہ جن سے بوڑھی اداس گلیاںمہک رہی ہیں

غریب بچے کہ جو شعاع سحر گہی ہیںہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں

وہ منزلیں جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیںترس رہی ہیں

انہی کے قدموں میں بس رہی ہیںحسین خوابوں

کی دھندلی دنیائیں جو سرابوںکا روپ دھارے

ہمارے احساس پر شرارےانڈیلتی ہیں

انہیں کی آنکھوں میں کھیلتی ہیںانہی کے گم سم

اداس چہروں پر جھلملاتے ہوئے تبسممیں ڈھل گئے ہیں ہمارے آنسو ہماری آہیں

طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے جب اک دنہمارے سائے

اس اپنی دنیا کی لاش اٹھائےتو سیل رواں

کی کوئی موج حیات ساماںفروغ فردا

کا رخ پہ ڈالے مہین پردااچھل کے شاید

سمیٹ لے زندگی کی سرحدکے اس کنارے

پہ گھومتے عالموں کے دھارےیہ سب جا ہے بجا ہے لیکن

یہ توتلی نو خرام روحیں کہ جن کی ہر سانس انگبیںاگر انہی کونپلوں کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے

تو بہتی ندیوںمیں آنے والی ہزار صدیوں

کا یہ تلاطمسکوت پیہم کا یہ ترنم

یہ جھونکے جھونکےمیں کھلتے گھونگھٹ نئی رتوں کے

تھکی خلاؤںمیں لاکھ ان دیکھی کہکشاؤں

کی کاوش رمہزار نا آفریدہ عالم

تمام باطلنہ ان کا مقصد نہ ان کا حاصل

اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں