9 اشعار

اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

Ahl-e-toofan aao dil walon ka afsana kahin

اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

«اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیںموج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں

دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنمسب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں

یار نکتہ داں کدھر ہے پھر چلیں اس کے حضورزندگی کو دل کہیں اور دل کو نذرانہ کہیں

تھامیں اس بت کی کلائی اور کہیں اس کو جنوںچوم لیں منہ اور اسے انداز رندانہ کہیں

سرخی مے کم تھی میں نے چھو لیے ساقی کے ہونٹسر جھکا ہے جو بھی اب ارباب مے خانہ کہیں

تشنگی ہی تشنگی ہے کس کو کہیے مے کدہلب ہی لب ہم نے تو دیکھے کس کو پیمانہ کہیں

پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہےشہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں

اے رخ زیبا بتا دے اور ابھی ہم کب تلکتیرگی کو شمع تنہائی کو پروانہ کہیں

آرزو ہی رہ گئی مجروحؔ کہتے ہم کبھیاک غزل ایسی جسے تصویر جانانہ کہیں

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں