7 اشعار

ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی

Khatm shor-e-toofan tha, dur thi siyahi bhi

ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی

«ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ختم شور طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھیدم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی

التفات سمجھوں یا بے رخی کہوں اس کورہ گئی خلش بن کر اس کی کم نگاہی بھی

اس نظر کے اٹھنے میں اس نظر کے جھکنے میںنغمۂ سحر بھی ہے آہ صبح گاہی بھی

یاد کر وہ دن جس دن تیری سخت گیری پراشک بھر کے اٹھی تھی میری بے گناہی بھی

پستیٔ زمیں سے ہے رفعت فلک قائممیری خستہ حالی سے تیری کج کلاہی بھی

شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کامیں ہی اپنی منزل کا راہ بر بھی راہی بھی

گنبدوں سے پلٹی ہے اپنی ہی صدا مجروحؔمسجدوں میں کی میں نے جا کے داد خواہی بھی

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں