7 اشعار

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

Nagri nagri phira musafir ghar ka rasta bhool gaya

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

«نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا» میراجی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیاکیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا

کیا بھولا کیسے بھولا کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھوکارن دوش نہیں ہے کوئی بھولا بھالا بھول گیا

کیسے دن تھے کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیںمن بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا

اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائیدھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا

یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگیدکھ میں سکھ ہے سکھ میں دکھ ہے بھید یہ نیارا بھول گیا

ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کیایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا

سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہلہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں