10 اشعار

زندگی ایک اذیت ہے مجھے

Zindagi ek aziyat hai mujhe

زندگی ایک اذیت ہے مجھے

«زندگی ایک اذیت ہے مجھے» میراجی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

زندگی ایک اذیت ہے مجھےتجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے

دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیالتجھ سے کس درجہ محبت ہے مجھے

تری صورت تری زلفیں ملبوسبس انہی چیزوں سے رغبت ہے مجھے

مجھ پہ اب فاش ہوا راز حیاتزیست اب سے تری چاہت ہے مجھے

تیز ہے وقت کی رفتار بہتاور بہت تھوڑی سی فرصت ہے مجھے

سانس جو بیت گیا بیت گیابس اسی بات کی کلفت ہے مجھے

آہ میری ہے تبسم تیرااس لیے درد بھی راحت ہے مجھے

اب نہیں دل میں مرے شوق وصالاب ہر اک شے سے فراغت ہے مجھے

اب نہ وہ جوش تمنا باقیاب نہ وہ عشق کی وحشت ہے مجھے

اب یوں ہی عمر گزر جائے گیاب یہی بات غنیمت ہے مجھے

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں