16 اشعار

رقیب

Raqīb

رقیب

«رقیب» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

تمہی کو آج مرے روبرو بھی ہونا تھااور ایسے رنگ میں جس کا کبھی گماں بھی نہ ہو

نگاہ تند غضب ناک دل کلام درشتچمن میں جیسے کسی باغباں کی آنکھوں نے

روش کے ساتھ ہی ننھے سے ایک پودے کوشگفتہ ہو کے سنورتے نکھرتے دیکھا ہو

مری تمہاری کہانی یہی کہانی ہےروش پر سر کو اٹھائے ہر ایک سوچ سے دور

میں اپنی دھن میں مگن تھا ہر تازہ قدممرے افق پہ چمکتے ہوئے ستارے کی

ہر اک کرن کو مرے پاس لائے جاتا تھامجھے نہ خار کا اندیشہ تھا نہ ٹھوکر کا

مگر یہ بھول تھی میری وہ خود فراموشیمرے ہی سامنے آئی ہے اور صورت میں

نگاہ تند غضب ناک دل کلام درشتمگر اب اس کی ضرورت نہیں میں سوچتا ہوں

تمہی کو آج مرے روبرو نہ ہونا تھاجہاں میں اور بھی تھے مجھ سے تم سے بڑھ کے کہیں

جو اجنبی تھے جنہیں اجنبی ہی رہنا تھامجھے کسی نے بتایا ہے آپ کے یہ دوست

ہمیشہ رات گئے اپنے گھر کو آتے ہیںلبوں سے سیٹی بجاتے ہیں گنگناتے ہیں

کسی کی آہ کسی کے کرم سے مٹتی ہےمیں تجھ سے کہتی ہوں بہنا یہ کیا زمانہ ہے

نہ اپنے نام کا کچھ پاس ہے نہ گھر کی لاجگئے مہینے سے ہر روز رات کو چھپ کر

ہماری بی بی کسی مردوئے سے ملتی ہےمجھے یہ فکر نہیں نوکروں کو عادت ہے

کہ پر کو کوا بناتے ہیں رائی کا پربتبس ایک دھیان کسی تیر کی طرح سیدھا

یہ سوچ بن کے مرے دل میں آ ٹھہرتا ہےیہی ہے جس کا کبھی نام لاجونتی تھا

— میراجی