28 اشعار

لب جوئے بارے

Lab-e-Jū-e-Bāre

لب جوئے بارے

«لب جوئے بارے» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

ایک ہی پل کے لیے بیٹھ کے پھر اٹھ بیٹھیآنکھ نے صرف یہ دیکھا کہ نشستہ بت ہے

یہ بصارت کو نہ تھی تاب کہ وہ دیکھ سکےکیسے تلوار چلی، کیسے زمیں کا سینہ

ایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بناپیچ کھاتے ہوئے یہ لہر اٹھی دل میں مرے

کاش! یہ جھاڑیاں اک سلسلۂ کوہ بنیںدامن کوہ میں میں جا کے ستادہ ہو جاؤں

ایسی انہونی جو ہو جائے تو کیوں یہ بھی نہ ہوخشک پتوں کا زمیں پر جو بچھا ہے بستر

وہ بھی اک ساز بنے ساز تو ہے ساز تو ہےنغمہ بیدار ہوا تھا جو ابھی کان ترے

کیوں اسے سن نہ سکے سننے سے مجبور رہےپردۂ چشم نے صرف ایک نشستہ بت کو

ذہن کے دائرۂ خاص میں مرکوز کیایاد آتا ہے مجھے کان ہوئے تھے بیدار

خشک پتوں سے جب آئی تھی تڑپنے کی صدااور دامن کی ہر اک لہر چمک اٹھی تھی

پڑ رہا تھا اسی تلوار کا سایہ شایدجو نکل آئی تھی اک پل میں نہاں خانے سے

جیسے بے ساختہ انداز میں بجلی چمکےلیکن اس دامن آلودہ کی ہر لہر مٹی

جل پری دیکھتے ہی دیکھتے روپوش ہوئیمیں ستادہ ہی رہا میں نے نہ دیکھا (افسوس!)

کیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا

دامن کوہ میں استادہ نہیں ہوں اس وقتجھاڑیاں سلسلۂ کوہ نہیں پردہ ہیں

جس کے اس پار جھلکتا نظر آتا ہے مجھےمنظر انجان، اچھوتی سی دلہن کی صورت

ہاں تصور کو میں اب اپنے بنا کر دولہااسی پردے کے نہاں خانے میں لے جاؤں گا

کیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہدل بے تاب کی مانند تڑپ اٹھا تھا

ایک بے ساختہ انداز میں بجلی کی طرحجل پری گوشۂ خلوت سے نکل آئی تھی!

زندگی گرم تھی ہر بوند میں آبی پاؤںخشک پتوں پہ پھسلتے ہوئے جا پہنچے تھے!

میں بھی موجود تھا اک کرمک بے نام و نشاںمیں نے دیکھا کہ گھٹا شق ہوئی دھارا نکلی

برق رفتاری سے اک تیر کماں نے چھوڑااور وہ خم کھا کے لچکتا ہوا تھرا کے گرا

قلۂ کوہ سے گرتے ہوئے پتھر کی طرحکوئی بھی روک نہ تھی اس کے لیے اس کے لیے

خشک پتوں کا زمیں پر ہی بچھا تھا بستراسی بستر پہ وہ انجان پری لیٹ گئی!

اور میں کرمک بے نام، گھٹا کی صورتاسی امید میں تکتا رہا تکتا ہی رہا

اب اسی وقت کوئی جل کی پری آ جائےبانسری ہاتھ میں لے کر میں گوالا بن جاؤں

جل پری آئے کہاں سے؟ وہ اسی بستر پرمیں نے دیکھا ابھی آسودہ ہوئی لیٹ گئی

لیکن افسوس کہ میں اب بھی کھڑا ہوں تنہاہاتھ آلودہ ہے، نم دار ہے، دھندلی ہے نظر،

ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے!

— میراجی