20 اشعار

جزو اور کل

Juzv Aur Kul

جزو اور کل

«جزو اور کل» میراجی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

سمجھ لو کہ جو شے نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوںکہیں بھی نہیں ہے

سمجھ لو کہ جو شے دکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہےوہ یہیں ہے

یہیں ہے مگر اب کہاں ہےمگر اب کہاں ہے

یہ کیا بات ہے ایسے جیسے ابھی وہ یہیں تھیمگر اب کہاں ہے

کوئی یاد ہے یا کوئی دھیان ہے یا کوئی خواب ہےنہ وہ یاد ہے اور نہ وہ دھیان ہے اور نہ وہ خواب ہے

مگر پھر بھی کچھ ہےمگر پھر بھی کچھ ہے

وہ اک لہر ہے ہاں فقط لہر ہےوہ اک لہر ہے ایسی جیسی کسی لہر میں بھی کوئی بات ہی تو نہیں ہے

اسی بات کو رو رہا ہوںاسی بات کو رو رہا ہے زمانہ

زمانہ اگر رو رہا ہے تو روئےمگر میں ازل سے تبسم ہنسی قہقہوں ہی میں پلتا رہا ہوں

ازل سے مرا کام ہنسنا ہنسانا رہا ہےتو کیا جب زمانہ ہنسا تھا تو اس کو ہنسایا تھا میں نے

یہ تم کہہ رہے ہو جو روتے رہے ہواگر تم یہ کہتے ہو میں مانتا ہوں

مگر جب زمانے کو رونا رلانا ملانا ہے تو روتا رہے گا زمانہفقط میں ہنسوں گا

یہ ممکن نہیں ہےزمانہ اگر روئے روؤں گا میں بھی

زمانہ ہنسے گا تو میں بھی ہنسوں گامگر یہ زمانے کا ہنسنا یہ رونا وہ شے ہے نظر آئے اور

یہ کہے میں کہاں ہوں کہیں بھی نہیں ہوںزمانے کا ہنسنا زمانے کا رونا وہ شے ہے

دکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے اور یہیں ہےمیں ہنستا چلا جاؤں گا اور روتا چلا جاؤں گا اور پھر بھی

زمانہ کہے گا تو روتا رہا ہے تو ہنستا رہا ہےمگر میں یہ کہتا ہوں تم سے کہ میں ہی وہ شے ہوں

جو اب بھی نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں تو پھر بھی دکھائینہ دے اور کہے میں کہیں بھی نہیں ہوں

میں روتا رہا تھا میں ہنستا گیا ہوںمگر تم تو ہنستے گئے تھے

بس اب تم ہی روؤ گے اور صرفاک میں ہوں جو اب بھی ہنستا رہوں گا

— میراجی