12 اشعار

یگانگت

Yagāngat

یگانگت

«یگانگت» میراجی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہےفقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

یہ میں کہہ رہا ہوںمیں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گاکہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

برائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیںمجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے

میں ہوں ایک اور میں اکیلا ہوں ایک اجنبی ہوںیہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے رستے اور دریا

یہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارتیہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور

یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافرہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

یہ کیا ہیںیہی تو زمانہ ہے یہ ایک تسلسل کا جھولا رواں ہے

یہ میں کہہ رہا ہوںیہ بستی یہ جنگل یہ رستے یہ دریا یہ پربت عمارت مجاور مسافر

ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادلیہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے

زمانہ ہوں میں میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہےمگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے

یہ کیسے کہوں میںکہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں