13 اشعار

بغاوت نفس

Baghāwat-e-Nafs

بغاوت نفس

«بغاوت نفس» میراجی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کیمانگتا ہے دل مرا دن رات کیوں

قسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھیآ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوں

کیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاباس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جواب

کیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کرکر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیات

کیوں نہیں آتی وہ راتجس کی خرم تر سحر

آرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلامراحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمام

راستہ مجھ کو نظر آتا نہیںراستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیں

چل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکلہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھل

بے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کلچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل

سینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابلچل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھ

اور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھدل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کر

دیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کرچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل

چل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں