6 اشعار

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

Ibtidā se hum za'īf o nā-tavāñ paidā hue

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

«ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے» میر انیس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئےاڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے

خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیںاس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے

علم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نونایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے

ضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہیاس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے

شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیبتلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے

احتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔخاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے

— میر انیس