9 اشعار

اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے

Ishaare kyā nigah-e-nāz dil-rubā ke chale

اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے

«اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے» میر انیس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلےستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے

گنہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلےخدا کے آگے خجالت سے سر جھکا کے چلے

طلب سے عار ہے اللہ سے فقیروں کوکہیں جو ہو گیا پھیرا صدا سنا کے چلے

پکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کیصنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے

مثال ماہیٔ بے آب موجیں تڑپا کیںحباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے

مقام یوں ہوا اس کارگاہ دنیا میںکہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آ کے چلے

کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھیچلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے

ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملاانہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے

انیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤچراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے

— میر انیس