5 اشعار

آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج

Aaye hain Meer munh ko banaye khafa se aaj

آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج

«آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آجشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج

واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملےکھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج

جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیںہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج

ساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج

تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میرؔپر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج

— میر تقی میر