15 اشعار

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

Ulti ho gayin sab tadbeerein kuchh na dawa ne kaam kiya

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

«الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موندیعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کیہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیںبانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئیکوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرامکوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مے خانے میںجبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا

کاش اب برقعہ منہ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہےآنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھیرخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیئےبھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سےاستغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھیسحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے توقشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

— میر تقی میر